5 نومبر 2012 - 20:30

شام میں امریکہ کے تمام منصوبے ناکام / شام نے حماس کے دفاتر بند کردیئے / بچہ کُش صہیونی ریاست کے شامی بچوں کےلئے مگرمچھ کے آنسو

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایک لبنانی تجزیہ نگار نے کہا: علاقے میں امریکہ اور اس کے کٹھ پتلی حکمرانوں کے تمام منصوبے ناکام ہو چکے ہیں اور امریکی اپنی پوری قوت کے باوجود اس وقت شام کے مسئلے میں بالکل بےبس ہوچکا ہے۔لبنانی تجزیہ نگار "وسیم بزّی" نے کہا: شام میں بیرونی قوتوں کی طرف سے پیدا کردہ بحران کے 21 مہینے گذر چکے ہیں اور ابتداء سے لے کر آج تک امریکی کی سرکردگی میں قطر، سعودی عرب اور ترکی سب اپنے مفادات کو شام کے عوام کی خواہشوں پر مسلط کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔انھوں نے کہا: شام کے خلاف سازش کی بڑی لہریں ختم ہوچکی ہیں اور جس طرح کہ شامی حکومت کہتی ہے اس ملک کے موجودہ بحران میں 80 فیصد کردار، بیرونی قوتیں ادا کررہی ہیں اور آج یہ حقیقت بالکل برملا ہوچکی ہے۔ انھوں نے کہا: امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک نے جنیوا کانفرنس میں منظور شدہ پروگرام کو عملی طور پر مسترد کیا کیونکہ وہ شام کو نیست و نابود کرنا چاہتے ہیں حالانکہ اس عرصے میں روس جنیوا منصوبے کا پابند رہا ہے۔ انھوں نے کہا امریکہ شام میں بے بس ہوچکا ہے اور امریکیوں کا دعوی ہے کہ وہ واحد نظام حکومت جو وہ ختم نہیں کرسکے ہیں کیوبا میں کاسترو کا نظام حکومت ہے جس کی وجہ سے انھوں نے کیوبا کو تنہا کرنے کی کوشش کی لیکن آج ہم شام میں دیکھ رہے ہیں کہ وہ اس ملک کے نظام کو بھی نقصان پہنچانے میں ناکام ہوچکے ہیں اور یوں امریکیوں کو شکست پر شکست کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ بزي، افزود: آمريكا و غرب مفاد نشست ژنو را رد کردند، زیرا خواستار نابودی سوریه هستند، اما روسیه به نشست ژنو پایبند بوده است.انھوں نے نام نہاد سیرین نیشنل کونسل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ کونسل اپنی افادیت کھوچکی ہے اور جو لوگ سیاسی عمل کے بجائے شام میں بیرونی مداخلت کے اسباب فراہم کرتے ہیں ان کا وجود اس ملک میں بحران اور اختلاف کی بنیاد ہے۔ شام نے حماس کے دفاتر بند کردیئےشام میں حماس کے بعض اراکین کی حکومت مخالف سرگرمیوں کے بعد حکومت شام کے سیکورٹی اداروں نے حماس تحریک کے دفاتر سیل کردیئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق حماس کے راہنماؤں کی قطر اور ترکی کے ساتھ قریبی تعلق اور شام کے خلاف سازشوں میں خالد مشعل کی براہ راست شراکت داری کے باوجود شام کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ ان تمام غیردوستانہ رویوں کے باوجود حماس کے دفاتر بند نہيں کرے گی لیکن حالیہ ایام میں یرموک کے فلسطینی کیمپ میں زبردست جھڑپیں ہونے لگی تھی اور اس کیمپ سے "التضامن" کا علاقہ مسلسل گولوں کا نشانہ بنا تھا جس کے بعد شام کی حکومت نے اس تنظیم کے دفاتر بند کردیئے ہیں جبکہ ڈالرز کی صورت میں خالد مشعل کو امداد فراہم کرنے والوں نے ابھی تک اپنی سرزمینوں پر حماس کے دفاتر کھولنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ حماس کے ایک سرکردہ راہنما "صلاح البردویل" جنہوں نے اس سے قبل شام کے باغیوں سے اظہار یکجہتی کیا تھا اور دہشت گردوں کو حریت پسند مجاہدین کا لقب دیا تھا، نے ایک مشکوک سا موقف اپنا کر کہا ہے: یہ بات اہم نہیں ہے کہ شام کی حکومت ہمارے دفاتر بند کرے یا بند نہ کرے لیکن فلسطینیوں کو جنگ میں نہ دھکیلا جائے کیونکہ شام میں جاری واقعات کا فلسطینیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ہم اپنے مہاجر بھائیوں کو ان جھگڑوں سے دور رکھنے کے لئے "شام کے واقعات کے بارے میں مزید اظہار خیال نہ کرنے کے لئے تیار ہیں!"۔ واضح رہے کہ نوے کی دہائی میں اردن نے حماس کے تمام راہنماؤں کو اپنی سرزمین سے نکال باہر کیا اور کوئي بھی عرب ملک انہيں قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوا تو شام نے انہیں قبول کیا اور انھوں نے شام میں اپنے دفاتر کھول دیئے لیکن جب شام کی حکومت کے خلاف امریکی ـ ترکی ـ سعودی ـ قطری بغاوت کا آغاز ہوا تو ابتدائی مرحلے میں حماس کے راہنما خالد مشعل نے قطر اور سعودی عرب کی شدید مذمت کی اور حکومت شام کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے صدر بشار اسد کو فلسطینیوں کا حامی قرار دیا لیکن اردن کی دلالی سے قطر نے انہیں قابو کیا جس کے بعد انھوں نے شام میں بعض دفاتر بند کئے اور مصر اور قطر کے درمیان بسنے کو قبول کیا چنانچہ وہ اب مصر اور قطر میں جاتے ہیں لیکن انہيں ہوٹلوں میں رہنا پڑتا ہے کیونکہ ان ممالک نے انہيں حماس کے دفاتر کھولنے کی اجازت نہيں دی ہے۔ بچہ کُش صہیونی ریاست کے شامی بچوں کےلئے مگرمچھ کے آنسوفلسطین اور لبنان کے ہزاروں بچوں کے قتل عام اور غزہ کے محاصرے کے حوالے سے بدنام زمانہ صہیونی ریاست کے صدر شمعون پیرز نے شام کے بچوں کے لئے مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہوئے کہا ہے: "مجھے شام کے بچوں کا خون بہائے جانے کی وجہ سے صدمہ پہنچا ہے"۔ اطلاعات کے مطابق جرائم پیشہ اور غاصب یہودی ریاست کے جرائم پیشہ اور اسلام دشمن صدر شمعون پیرز نے کہا: جو کام ہم ماضی میں شام کے خلاف نہیں کرسکے وہ اب ہمیں کرلینا چاہئے۔پیرز نے اپنے عرب دوستوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں نیلی ٹوپیوں والی عرب فوج تشکیل دے کر شام میں بھجوادیں۔ پیرز نے پرامید لب و لہجے میں کہا: عرب ليک اگر اس طرح کے کسی جھگڑے کو حل نہ کرسکے تو اس کا فائدہ کیا ہوگا۔یاد رہے کہ عرب لیگ ابتدائی طور پر صہیونی ریاست کو عرب سرزمین سے ماربھگانے کے لئے تشکیل پائی تھی تاہم وہ آج کل امریکہ اور صہیونی ریاست کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے اور نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ صہیونی ریاست کا سرغنہ عرب لیگ سے اپنے دشمن "شام" کے خلاف اقدام کا مطالبہ کرتے ہوئے نہیں ہچکچاتے! اور نہ صرف یہ بلکہ اعلانیہ طور پر عرب لیگ کو اس کے فرائض تک یاد دلاتا ہے!۔واضح رہے کہ شمعون پیرز 1990 کے عشرے کے آغاز پر غاصب صہیونی ریاست کا وزیر اعظم تھا اور اسی کے حکم پر 1993 میں لبنان پر جارحیت کی گئی جس کے نتیجے میں "قانا" کے علاقے میں درجنوں بچوں کے جسم ٹکڑوں میں بدل گئے اور 2006 میں بھی پورے لبنان کو مٹی کے ڈھیر میں بدلنےکے لئے ہونے والے حملے میں قانا کے علاقے میں وہی سانحہ دہرایا گیا لیکن اب شمعون پیرز کا کہنا ہے کہ شامی حکومت بچوں کے ٹینکوں سے کچلتے ہيں اور ٹینکوں کو بچے کچلنے سے پرہیز کرنا چاہئے! واضح رہے کہ دشمنان اسلام جو کسی زمانے میں اسلام پسندوں، عربوں، خادمین حرمین وغیرہ وغیرہ کے عناون کے پیچھے چھپے ہوئے تھے آج نقاب پھینک کر میدان میں آئے ہیں اور آج وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کا نہ صرف انکار نہيں کرتے بلکہ اسلام کے خلاف تمام تر سازشوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کررہے ہيں جس کی واضح مثال شام کے خلاف عرب اسرائیل اور امریکہ و ترکی کا یکسان موقف اور یکسان سازشیں ہیں۔قانا پر شمعون پیرز کے حکم پر صہیونی بمباری میں شہید ہونے والے بچوں کی بعض تصویریں دیکھئے: